ہر روز وہاں ایک نیا فتنہ کھڑا تھا
ہر روز وہاں ایک نیا فتنہ کھڑا تھا
جس دشت میں میں دل زدہ پتھر سا پڑا تھا
سانسوں میں حرارت ہے تو کچھ دھیان سے اپنے
ورنہ ترے جانے کا مجھے رنج بڑا تھا
ہنس ہنس کے کیا سہل اسے بو الہوسوں نے
ارباب دل و دیدہ پہ جو وقت کڑا تھا
ہر راہ میں اب سائے سے ان کے ہے اندھیرا
نعلین میں جن لوگوں کے خورشید پڑا تھا
مٹی میں ملا موج نسیم سحری سے
میں سینۂ گلشن پہ ہمالہ سا کھڑا تھا
وہ شور اٹھا سارا چمن رہ گیا سن سے
سوکھا ہوا پتا کوئی ٹہنی سے جھڑا تھا
شہرتؔ سے جگر دار پہ کیا بیت گئی ہے
چوراہے پہ کل شہر کے حیران کھڑا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.