موت میرے سر پہ جب منڈلائے گی
موت میرے سر پہ جب منڈلائے گی
ناؤ ساحل پر بھنور بن جائے گی
پھول بن جائے گی پتھر سی وہ بات
جو ترے ہونٹوں سے ہو کر آئے گی
چاند میری گرد ہے تارے خیال
دل کی بیتابی کہاں لے جائے گی
تو نے دیکھا ہے مجھے جس آگ میں
تیرے دامن تک بھی وہ آ جائے گی
وہ کلی کیا مسکرائے گی جسے
صحن گلشن سے خزاں لے جائے گی
میری آنکھوں سے لہو بہتا رہے
دل کی دھڑکن اور کیا سمجھائے گی
میں نشان راہ بن جاؤں ظفرؔ
زندگی اب اور کس کام آئے گی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.