ہر چند فسادات میں خنجر بھی مرا تھا
ہر چند فسادات میں خنجر بھی مرا تھا
جو تن سے جدا ہو گیا وہ سر بھی مرا تھا
ابھرا جو ترے زخم سے وہ درد تھا میرا
جو تجھ کو لگا آ کے وہ پتھر بھی مرا تھا
جو آگ لگی وہ تھی لگائی ہوئی میری
جو خاک ہوا جاتا تھا وہ گھر بھی مرا تھا
احساس کے ریشم میں وہ نرمی بھی مری تھی
جذبات کے طوفان میں تیور بھی مرا تھا
خلوت میں سلگتی ہوئی وہ پیاس تھی میری
محفل میں چھلکتا ہوا ساغر بھی مرا تھا
جو فتح ملی تھی اسے وہ فتح مری تھی
جو ہار گیا رن میں وہ لشکر بھی مرا تھا
میں آشناؔ مختار بھی مجبور بھی ٹھہرا
تدبیر بھی میری تھی مقدر بھی مرا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.