بہار بے سپر جام یار گزرے ہے
بہار بے سپر جام یار گزرے ہے
نسیم تیر سی چھاتی کے پار گزرے ہے
شراب حلق سے ہوتی نہیں فرو تجھ بن
گلوئے خشک سے تیغ آب دار گزرے ہے
گزر مرا ترے کوچے میں گر نہیں تو نہ ہو
مرے خیال میں تو لاکھ بار گزرے ہے
کہے ہے آج ترے در پہ اضطراب نسیم
کہ اس جہاں سے کوئی خاکسار گزرے ہے
تری گلی سے گزرتا ہوں اس طرح ظالم
کہ جیسے ریت سے پانی کی دھار گزرے ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.