Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نکلے تھے زہر بن کے جو دل کی کمان سے

عنبر حیدر

نکلے تھے زہر بن کے جو دل کی کمان سے

عنبر حیدر

MORE BYعنبر حیدر

    نکلے تھے زہر بن کے جو دل کی کمان سے

    وہ تیر تھے کہ لفظ جو نکلے زبان سے

    ہر ایک حرف ایک نیا زخم دے گیا

    ہم کیا ہی آشنا ہوئے ان کے بیان سے

    وہ جا چکے تھے ہم کو یقیں دیر سے ہوا

    روکا ہوا تھا جن کو پرانے گمان سے

    کچھ اس طرح وہ دل میں اترتے چلے گئے

    جیسے امان آ کے ملے بے امان سے

    خاموشیوں نے اور بھی الجھا دیا ہمیں

    وہ بات کر رہے تھے دل بے زبان سے

    کچھ فاصلے بھی بڑھ گئے دونوں کے درمیاں

    کچھ ہم بھی بچ نہ پائے دل بد گمان سے

    رخصت کے وقت ماتھے پہ بوسہ لیا تھا جو

    مہکا ہوا ہے آج بھی دل اس نشان سے

    ہم سے نگاہ پھیر کے کچھ یوں ستم کیا

    وہ دیکھتے رہے ہمیں اپنے جہان سے

    ہم نے تو چاہتوں کو عبادت بنا لیا

    ہٹ ہی نہ پایا دل یہ کسی آستان سے

    عنبرؔ سوال دل کے سر عام رکھ دیے

    وہ پھر بھی مطمئن نہ ہوئے امتحان سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے