نکلے تھے زہر بن کے جو دل کی کمان سے
نکلے تھے زہر بن کے جو دل کی کمان سے
وہ تیر تھے کہ لفظ جو نکلے زبان سے
ہر ایک حرف ایک نیا زخم دے گیا
ہم کیا ہی آشنا ہوئے ان کے بیان سے
وہ جا چکے تھے ہم کو یقیں دیر سے ہوا
روکا ہوا تھا جن کو پرانے گمان سے
کچھ اس طرح وہ دل میں اترتے چلے گئے
جیسے امان آ کے ملے بے امان سے
خاموشیوں نے اور بھی الجھا دیا ہمیں
وہ بات کر رہے تھے دل بے زبان سے
کچھ فاصلے بھی بڑھ گئے دونوں کے درمیاں
کچھ ہم بھی بچ نہ پائے دل بد گمان سے
رخصت کے وقت ماتھے پہ بوسہ لیا تھا جو
مہکا ہوا ہے آج بھی دل اس نشان سے
ہم سے نگاہ پھیر کے کچھ یوں ستم کیا
وہ دیکھتے رہے ہمیں اپنے جہان سے
ہم نے تو چاہتوں کو عبادت بنا لیا
ہٹ ہی نہ پایا دل یہ کسی آستان سے
عنبرؔ سوال دل کے سر عام رکھ دیے
وہ پھر بھی مطمئن نہ ہوئے امتحان سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.