Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ کائنات صراحی تھی جام آنکھیں تھیں

طارق نعیم

یہ کائنات صراحی تھی جام آنکھیں تھیں

طارق نعیم

MORE BYطارق نعیم

    یہ کائنات صراحی تھی جام آنکھیں تھیں

    مواصلات کا پہلا نظام آنکھیں تھیں

    غنیم شہر کو وہ تھا بصارتوں کا جنوں

    کہ جب بھی لوٹ کے لایا تمام آنکھیں تھی

    اب آ گئے ہیں یہ چہروں کے زخم بھرنے کو

    کہاں گئے تھے مناظر جو عام آنکھیں تھیں

    خطوط نور سے ہر حاشیہ مزین تھا

    کتاب حسن میں سارا کلام آنکھیں تھیں

    وہ قافلہ کسی اندھے نگر سے آیا تھا

    ہر ایک شخص کا تکیہ کلام آنکھیں تھیں

    نظر فروز تھا یوسف کا پیرہن شاید

    دیار مصر سے پہلا سلام آنکھیں تھیں

    تم اور دیر نہ دکھتے تو مر گئی ہوتیں

    قسم خدا کی بہت تشنہ کام آنکھیں تھیں

    غزال دیکھنے آتے تھے دشت بھر کے انہیں

    مری گلی میں عجب تیرہ فام آنکھیں تھیں

    اک عہد ہم نے وہ دیکھا کہ جو دکھایا گیا

    غلام چہرے تھے اپنے غلام آنکھیں تھیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے