سخن کا مسئلہ لفظ کتاب تک نہیں ہے
سخن کا مسئلہ لفظ کتاب تک نہیں ہے
یے کلیات مرا انتخاب تک نہیں ہے
گنوا کے عمر اٹھا ہوں تمہاری نیند سے میں
ملال آنکھ میں ایسا ہے خواب تک نہیں ہے
بزعم سینۂ خالی ملیں گے اب اوس سے
کہ دیکھ لے تو کہے اضطراب تک نہیں ہے
وہ چشم قرض فروش آ رھی ہے سو میں بھی
لٹا رہا ہوں کہ ۔۔۔جو دستیاب تک نہیں ہے
فراق وہ ہے کہ اب دیکھنے سے اس کو گئے
خوشا کہ بیچ میں پردہ نقاب تک نہیں ہے
تمام عمر کٹی اس کے وار گنتے ہوئے
جو زخم کھاے ہیں ان کا حساب تک نہیں ہے
کھدا کرے کہ ترے پاؤں سے اٹھیں ہی نہیں
پر اب تو ہاتھ اٹھانے کی تاب تک نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.