پاس پھٹکے نہ ذرا مجھ کو بچانے والے
پاس پھٹکے نہ ذرا مجھ کو بچانے والے
آ کے پھر بیٹھ گئے دل میں ستانے والے
سحر و اعجاز ہے کیا چیز ہے ان آنکھوں میں
کس قدر خوش ہیں دل و جان لٹانے والے
الٹی سیدھی کوئی پٹی وہ پڑھاتے ہیں ضرور
گھورتے ہیں مجھے اس بزم سے آنے والے
آپ کو عہد وفا یاد نہ ہو لیکن ہم
دار فانی سے اکیلے نہیں جانے والے
اس نے پائی ہے قیامت سی قیامت آواز
کھنچ کے آ جاتے ہیں خود جان سے جانے والے
اس غلط فہمی میں مت رہ کہ چلے جائیں گے
تیرے کوچے سے یہ آواز لگانے والے
سوچنے لگتا ہوں کیا کیا کوئی جب کہتا ہے
پوچھتے رہتے ہیں تجھ کو وہ ستانے والے
کیوں حسینوں کا دکھا دیتے ہو دل تم ضامنؔ
ڈھونڈھتے پھرتے ہو پھر صلح کرانے والے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.