وہ اگر بے خبر نہیں ہوتا
وہ اگر بے خبر نہیں ہوتا
حال اپنا دگر نہیں ہوتا
ان کی چشم کرم اگر ہوتی
آج میں دربدر نہیں ہوتا
سنگ ہی سے نوازتے مجھ کو
تم سے یہ بھی مگر نہیں ہوتا
ہر تبسم نہیں مسیحائی
ہر کوئی چارہ گر نہیں ہوتا
بھیگ جاتا تھا پہلے دامن تک
اب تو دیدہ بھی تر نہیں ہوتا
پہلے ان کی تھی صبح و شام یہاں
اب تو برسوں گزر نہیں ہوتا
گاہے گاہے اگر خوشی ملتی
غم کا اتنا اثر نہیں ہوتا
کارواں کتنے ہی بدل ڈالے
ختم پھر بھی سفر نہیں ہوتا
نورؔ احساس جس کا مر جائے
اس پہ کچھ بھی اثر نہیں ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.