نگار دشت کی جانب کوئی قدم اب تو
نگار دشت کی جانب کوئی قدم اب تو
ہجوم شہر میں گھٹنے لگا ہے دم اب تو
کھڑا ہوں دل کے دوراہے پہ ہاتھ پھیلائے
چھپائے چھپتے نہیں زندگی کے غم اب تو
نئے خیال نئے فاصلوں کے ساتھ آئے
نہ مل سکیں گے کسی راستے میں ہم اب تو
مسافران محبت کا انتظار نہ کر
کہ دل میں آ گئے راہوں کے پیچ و خم اب تو
ہنسو کہ دل کے غموں کا کوئی علاج نہیں
ہے داغ اپنے ہی چہرے کا چشم نم اب تو
نکل گیا ہے سفینہ ترا کدھر باقیؔ
صدائیں آتی ہیں ساحل سے دم بہ دم اب تو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.