دل میں کسی مجبور کے جذبات بندھے تھے
دل میں کسی مجبور کے جذبات بندھے تھے
تر آنکھ تھی ہونٹوں پہ سوالات بندھے تھے
گھر میں تھا ترے دم سے اجالا ہی اجالا
چہرے کے ترے نور سے ظلمات بندھے تھے
دنیا کی نگاہوں کا عجب جال پڑا تھا
کرتے بھی تو کس طرح ملاقات بندھے تھے
کچھ سوچ نہ پائے نہ قلم ہاتھ میں آیا
زنجیر میں اشکوں کے خیالات بندھے تھے
احساس تھا تہذیب کا اٹھتے بھی تو کیسے
شعرا کی وہ محفل تھی کہ کل رات بندھے تھے
اس حال میں نیند آنکھ میں آتی بھی تو کیسے
یادوں کی تری ڈور سے کل رات بندھے تھے
وہ ٹرین کے ڈبے میں عزیزوں سے گھرا تھا
بھیگی ہوئی آنکھوں میں سوالات بندھے تھے
کیا قدر وہاں ہوتی ظفرؔ دیدۂ تر کی
ریشم میں جہاں سیکڑوں سوغات بندھے تھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.