Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل میں کسی مجبور کے جذبات بندھے تھے

ظفر مرزاپوری

دل میں کسی مجبور کے جذبات بندھے تھے

ظفر مرزاپوری

MORE BYظفر مرزاپوری

    دل میں کسی مجبور کے جذبات بندھے تھے

    تر آنکھ تھی ہونٹوں پہ سوالات بندھے تھے

    گھر میں تھا ترے دم سے اجالا ہی اجالا

    چہرے کے ترے نور سے ظلمات بندھے تھے

    دنیا کی نگاہوں کا عجب جال پڑا تھا

    کرتے بھی تو کس طرح ملاقات بندھے تھے

    کچھ سوچ نہ پائے نہ قلم ہاتھ میں آیا

    زنجیر میں اشکوں کے خیالات بندھے تھے

    احساس تھا تہذیب کا اٹھتے بھی تو کیسے

    شعرا کی وہ محفل تھی کہ کل رات بندھے تھے

    اس حال میں نیند آنکھ میں آتی بھی تو کیسے

    یادوں کی تری ڈور سے کل رات بندھے تھے

    وہ ٹرین کے ڈبے میں عزیزوں سے گھرا تھا

    بھیگی ہوئی آنکھوں میں سوالات بندھے تھے

    کیا قدر وہاں ہوتی ظفرؔ دیدۂ تر کی

    ریشم میں جہاں سیکڑوں سوغات بندھے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے