دل کی تخریب کو تعمیر سمجھنے والے
دل کی تخریب کو تعمیر سمجھنے والے
ہیں وہی عشق کی تاثیر سمجھنے والے
وہ مرے عزم سے واقف ہی کہاں ہیں آخر
میری پازیب کو زنجیر سمجھنے والے
میری تنہائی کے ساتھی ہیں یہ سارے جگنو
ہیں یہی نالۂ شبگیر سمجھنے والے
ان سے جذبات سمجھنے کی توقع کب ہے
جو فقط خط کو ہیں تحریر سمجھنے والے
عارضی سب ہے یہاں کیا انہیں معلوم نہیں
میرے غم کو مری تقدیر سمجھنے والے
عشق کے کھیل میں وہ لوگ پرانے ہوں گے
ہیں جو آنکھوں کے سبھی تیر سمجھنے والے
مجھ کو غیروں سے گلہ کوئی نہیں ہے روبیؔ
میرے اپنے ہی نہیں پیر سمجھنے والے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.