مجھ پہ بھی ہونے لگی وحشت سی طاری ہائے ہائے
مجھ پہ بھی ہونے لگی وحشت سی طاری ہائے ہائے
اس سے پہلے شب نہیں ہوتی تھی بھاری ہائے ہائے
دشمن جاں بھی مجھے اب حوصلہ دینے لگے
کون کرنے لگ گیا ہے غم گساری ہائے ہائے
دشمنوں کی صف میں جب سے یار شامل ہو گئے
کون ہے جو اب نبھائے رسم یاری ہائے ہائے
بخیہ گر اب تیری یہ بخیہ گری بے سود ہے
دل پہ یاروں نے لگائی ضرب کاری ہائے ہائے
عشق کی راہیں بہت پر پیچ ہیں یہ جان لے
عشق کی تقدیر میں ہوتی ہے خواری ہائے ہائے
ساحلوں پر سب سفینے ہم جلا کر آ گئے
اب سے ہو مردوں کی ہی مردم شماری ہائے ہائے
آستیں کے سانپ بھی ہر وقت میرے ساتھ تھے
پر خطر یہ زندگی ہم نے گزاری ہائے ہائے
اس جہاں میں گرگٹوں کی چار سو بھرمار ہے
مخلصی کا قحط ہے ارقم بخاریؔ ہائے ہائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.