مری غزلوں میں جو دکھ ہے مرا ذاتی نہیں ہوتا
مری غزلوں میں جو دکھ ہے مرا ذاتی نہیں ہوتا
محبت میں اگر میں اتنا جذباتی نہیں ہوتا
تو میری دوستی کو دے رہا ہے آج جو گالی
مگر یہ یاد رکھ ہر آدمی گھاتی نہیں ہوتا
محبت کا یہ انکر پھوٹتا تو ہے جوانی میں
مگر یہ ایسا پودھا ہے جو برساتی نہیں ہوتا
سفر میں یوں تو کہنے کو بہت سے لوگ ملتے ہیں
مگر ہر آدمی دکھ درد کا ساتھی نہیں ہوتا
یہاں دعویٰ فقیری کا بہت سے لوگ کرتے ہیں
مگر دنیا میں ہر سادھو کراماتی نہیں ہوتا
بہت پر پیچ ہوتی ہیں خرد کی منزلیں لیکن
جنوں کا راستہ اتنا طلسماتی نہیں ہوتا
اگر حالات کا مارا ہوا بندہ نہ ہوتا میں
کبیرؔ اپنا تخلص ہے جو حالاتی نہیں ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.