Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مری غزلوں میں جو دکھ ہے مرا ذاتی نہیں ہوتا

کبیر حالاتی

مری غزلوں میں جو دکھ ہے مرا ذاتی نہیں ہوتا

کبیر حالاتی

MORE BYکبیر حالاتی

    مری غزلوں میں جو دکھ ہے مرا ذاتی نہیں ہوتا

    محبت میں اگر میں اتنا جذباتی نہیں ہوتا

    تو میری دوستی کو دے رہا ہے آج جو گالی

    مگر یہ یاد رکھ ہر آدمی گھاتی نہیں ہوتا

    محبت کا یہ انکر پھوٹتا تو ہے جوانی میں

    مگر یہ ایسا پودھا ہے جو برساتی نہیں ہوتا

    سفر میں یوں تو کہنے کو بہت سے لوگ ملتے ہیں

    مگر ہر آدمی دکھ درد کا ساتھی نہیں ہوتا

    یہاں دعویٰ فقیری کا بہت سے لوگ کرتے ہیں

    مگر دنیا میں ہر سادھو کراماتی نہیں ہوتا

    بہت پر پیچ ہوتی ہیں خرد کی منزلیں لیکن

    جنوں کا راستہ اتنا طلسماتی نہیں ہوتا

    اگر حالات کا مارا ہوا بندہ نہ ہوتا میں

    کبیرؔ اپنا تخلص ہے جو حالاتی نہیں ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے