حادثے کب کہاں نہیں ہوتے
حادثے کب کہاں نہیں ہوتے
کچھ نہاں کچھ عیاں نہیں ہوتے
ہم شکایت پرست ہیں ورنہ
شکر کے دن کہاں نہیں ہوتے
جو کریں دشمنوں کو شرمندہ
دوست ایسے کہاں نہیں ہوتے
یہ نگاہوں نے کہہ دیا ورنہ
کچھ مطالب بیاں نہیں ہوتے
رات بھر راستوں پہ رہتے ہیں
جگنوؤں کے مکاں نہیں ہوتے
کاغذی پھول لاکھ رنگیں ہوں
شامل گلستاں نہیں ہوتے
آزما لو یہاں محبت کو
عرش پر امتحاں نہیں ہوتے
روٹھ کر کس طرف کو جاؤ گے
دل سے اچھے مکاں نہیں ہوتے
جو بدل جاتے ہیں زمانے سے
وہ امام زماں نہیں ہوتے
راستہ کون سا ہے جس پہ تقیؔ
رہزنوں کے مکاں نہیں ہوتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.