Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حادثے کب کہاں نہیں ہوتے

تقی عابدی

حادثے کب کہاں نہیں ہوتے

تقی عابدی

MORE BYتقی عابدی

    حادثے کب کہاں نہیں ہوتے

    کچھ نہاں کچھ عیاں نہیں ہوتے

    ہم شکایت پرست ہیں ورنہ

    شکر کے دن کہاں نہیں ہوتے

    جو کریں دشمنوں کو شرمندہ

    دوست ایسے کہاں نہیں ہوتے

    یہ نگاہوں نے کہہ دیا ورنہ

    کچھ مطالب بیاں نہیں ہوتے

    رات بھر راستوں پہ رہتے ہیں

    جگنوؤں کے مکاں نہیں ہوتے

    کاغذی پھول لاکھ رنگیں ہوں

    شامل گلستاں نہیں ہوتے

    آزما لو یہاں محبت کو

    عرش پر امتحاں نہیں ہوتے

    روٹھ کر کس طرف کو جاؤ گے

    دل سے اچھے مکاں نہیں ہوتے

    جو بدل جاتے ہیں زمانے سے

    وہ امام زماں نہیں ہوتے

    راستہ کون سا ہے جس پہ تقیؔ

    رہزنوں کے مکاں نہیں ہوتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے