Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دشمن جان مری جان ہوئے جاتے ہیں

روبینہ ایاز

دشمن جان مری جان ہوئے جاتے ہیں

روبینہ ایاز

MORE BYروبینہ ایاز

    دشمن جان مری جان ہوئے جاتے ہیں

    کیا یہی عشق کے امکان ہوئے جاتے ہیں

    کوئی اتنا بھی بھلا کیسے بدل سکتا ہے

    آپ کو دیکھ کے حیران ہوئے جاتے ہیں

    اب محبت کی کتابیں نہیں پڑھتا کوئی

    اب ورق اس کے بھی ہلکان ہوئے جاتے ہیں

    بس ابھی میں نے سجائے تھے جو خواب آنکھوں میں

    دیکھتے دیکھتے ویران ہوئے جاتے ہیں

    ہجر نے تیرے سکھایا ہے سلگنے کا ہنر

    ہم ترے عشق میں لوبان ہوئے جاتے ہیں

    دل پہ اشعار اترتے ہیں تری فرقت میں

    اور ہم صاحب دیوان ہوئے جاتے ہیں

    عین مشکل تو اسی بات میں ہے اب روبیؔ

    مرحلے عشق کے آسان ہوئے جاتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے