دشمن جان مری جان ہوئے جاتے ہیں
دشمن جان مری جان ہوئے جاتے ہیں
کیا یہی عشق کے امکان ہوئے جاتے ہیں
کوئی اتنا بھی بھلا کیسے بدل سکتا ہے
آپ کو دیکھ کے حیران ہوئے جاتے ہیں
اب محبت کی کتابیں نہیں پڑھتا کوئی
اب ورق اس کے بھی ہلکان ہوئے جاتے ہیں
بس ابھی میں نے سجائے تھے جو خواب آنکھوں میں
دیکھتے دیکھتے ویران ہوئے جاتے ہیں
ہجر نے تیرے سکھایا ہے سلگنے کا ہنر
ہم ترے عشق میں لوبان ہوئے جاتے ہیں
دل پہ اشعار اترتے ہیں تری فرقت میں
اور ہم صاحب دیوان ہوئے جاتے ہیں
عین مشکل تو اسی بات میں ہے اب روبیؔ
مرحلے عشق کے آسان ہوئے جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.