Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دنیا کی ہر بلا سے مصیبت سے بچ گیا

کبیر حالاتی

دنیا کی ہر بلا سے مصیبت سے بچ گیا

کبیر حالاتی

MORE BYکبیر حالاتی

    دنیا کی ہر بلا سے مصیبت سے بچ گیا

    لیکن یہ عشق میرے بدن کو کھرچ گیا

    وہ دان دے کے دنیا میں مشہور تو ہوا

    پر دان ویر کرن کا رکشا کوچ گیا

    تلوار پر جب اس کی کوئی بولتا نہیں

    میں نے قلم اٹھائی تو کیوں شور مچ گیا

    گیتا پہ ہاتھ رکھ کے قسم کھا گیا مگر

    ہونٹوں سے تیرے اس کی عدالت میں سچ گیا

    دشمن تو چاہتا ہے مجھے موت دے مگر

    اس کے ہر ایک وار سے ہر بار بچ گیا

    تاریخ جیت کر بھی رقم تو نہ کر سکا

    لیکن میں تجھ سے ہار کے اتہاس رچ گیا

    میری وفائیں اس کو کبھی پچ نہیں سکیں

    اس کا ہر اک فریب مجھے کیسے پچ گیا

    میری ہنسی کے بدلے مجھے دے گیا ہے اشک

    پانی وہ اپنے گھر کا مرے گھر الچ گیا

    جلنے لگا ہے مجھ سے کبیراؔ میرا رقیب

    محبوب میرا جب سے مجھے کرکے ٹچ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے