دنیا کی ہر بلا سے مصیبت سے بچ گیا
دنیا کی ہر بلا سے مصیبت سے بچ گیا
لیکن یہ عشق میرے بدن کو کھرچ گیا
وہ دان دے کے دنیا میں مشہور تو ہوا
پر دان ویر کرن کا رکشا کوچ گیا
تلوار پر جب اس کی کوئی بولتا نہیں
میں نے قلم اٹھائی تو کیوں شور مچ گیا
گیتا پہ ہاتھ رکھ کے قسم کھا گیا مگر
ہونٹوں سے تیرے اس کی عدالت میں سچ گیا
دشمن تو چاہتا ہے مجھے موت دے مگر
اس کے ہر ایک وار سے ہر بار بچ گیا
تاریخ جیت کر بھی رقم تو نہ کر سکا
لیکن میں تجھ سے ہار کے اتہاس رچ گیا
میری وفائیں اس کو کبھی پچ نہیں سکیں
اس کا ہر اک فریب مجھے کیسے پچ گیا
میری ہنسی کے بدلے مجھے دے گیا ہے اشک
پانی وہ اپنے گھر کا مرے گھر الچ گیا
جلنے لگا ہے مجھ سے کبیراؔ میرا رقیب
محبوب میرا جب سے مجھے کرکے ٹچ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.