ہر بار نئے تیروں کی بوچھار کرے ہے
ہر بار نئے تیروں کی بوچھار کرے ہے
یہ کام تھا دشمن کا مگر یار کرے ہے
دے سکتا ہوں میں اس کو جواب ان کی زباں میں
مجبور مگر مجھ کو یہ دستار کرے ہے
ہم نے تو دعا مانگی ہے دشمن کے لیے بھی
اک تو ہے کہ اپنوں پہ ہی یلغار کرے ہے
جو شخص مرے نام سے منسوب ہوا تھا
وہ آج مری راہ کو پرخار کرے ہے
پہلے تو بناتی ہے مکاں خود ہی حکومت
پھر اس پہ ستم یہ ہے کہ مسمار کرے ہے
بیدار نہ کر دے کہیں یہ نیند سے سب کو
پازیب ترے پاؤں کی جھنکار کرے ہے
دیکھا نہ کرو شوخ نگاہوں سے خدا را
یہ تیر نظر میرا جگر پار کرے ہے
ہم میرؔ کے شیدائی ہیں غالبؔ کے ہیں پیکر
دنیا کو یہی بات تو بیزار کرے ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.