آخرش چھوڑ کے جانی ہے یہ ساری دنیا
آخرش چھوڑ کے جانی ہے یہ ساری دنیا
پھر بھی ہر شخص نے شدت سے سنواری دنیا
یہ الگ بات یہاں کون رکے گا کتنا
مستقل ہے نہ ہماری نہ تمہاری دنیا
ہائے اولاد کی جانب سے توجہ کی کمی
بوڑھے ماں باپ کو لگنے لگی بھاری دنیا
مجھ کو معلوم ہے دنیا کی حقیقت کیا ہے
جس کو لگتی ہے سو لگتی رہے پیاری دنیا
رفتہ رفتہ یہ ہمیں کاٹتی جاتی ہے جناب
یعنی ہم لوگ شجر اور ہے آری دنیا
کیسی دنیا ہے کہ اس کو بھی نہیں چھوڑتی ہے
جس نے پل بھر کبھی سر سے نہ اتاری دنیا
بعد از موت خدا حشر میں پوچھے گا ضرور
آؤ بتلاؤ ذرا کیسے گزاری دنیا
ہم بھی چل دیں گے اسے چھوڑ کے اک دن کاشفؔ
روتی رہ جائے گی پیچھے یہ بچاری دنیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.