زندگی تجھ کو خفا کرنا ہے
زندگی تجھ کو خفا کرنا ہے
اور جینے کی دعا کرنا ہے
آج پھر طالب دیدار ہوں میں
چند زخموں کو نیا کرنا ہے
قیس اب یاد بہت آئے گا
قید سے پنچھی رہا کرنا ہے
حسن ظالم پہ کہوں گا کچھ شعر
یعنی اک حشر بپا کرنا ہے
ایک دن دل نے کہا غصے میں
آنکھ سے خود کو جدا کرنا ہے
عشق ہے آپ کا سو خود جانیں
مجھ سے مت پوچھیے کیا کرنا ہے
عشق میں پہلی حماقت مقصودؔ
کچھ نہیں صرف دوا کرنا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.