کیوں جدائی کی سزا دوں اس کو
کیوں جدائی کی سزا دوں اس کو
اپنے آنگن کا پتا دوں اس کو
وہ جو چلمن ہے بڑی اڑچن ہے
کیوں نہ اب آگ لگا دوں اس کو
کب تلک قید رہے گی ایسے
پر لگا کر نا اڑا دوں اس کو
ہو مرے پاس اک ایسی پڑیا
جب بھی روئے تو ہنسا دوں اس کو
حسن پر آئے نہ گرہن اس کے
ایسی نادر سی دعا دوں اس کو
مرض عشق یونہی گرم رہے
ایسی حکمت کی دوا دوں اس کو
ہو مرے بس میں اگر یہ طارقؔ
چاند تاروں سے سجا دوں اس کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.