حسرتوں کی راکھ جب دل میں دبی رہ جائے گی
حسرتوں کی راکھ جب دل میں دبی رہ جائے گی
بس کہ ہونٹوں پر بھی مہر خامشی رہ جائے گی
سرد مہری کا یہی عالم رہا تو ایک دن
کیسا اخلاص وفا کیا دوستی رہ جائے گی
غم کا بادل تو نواح جاں میں برسے گا ضرور
خشک چہرہ ہو تو آنکھوں میں نمی رہ جائے گی
ہر طرف جاگ اٹھیں گے ہنگامے اور اپنی نظر
پر سکوں کلیوں کا منظر ڈھونڈتی رہ جائے گی
آندھیاں لے جائیں گی سب کے گھروں کی بجلیاں
صرف کٹیا میں دیئے کی روشنی رہ جائے گی
اپنی آنکھوں پر ذرا قابو کرو ورنہ ظفرؔ
آنسوؤں کے گھر میں وہ صورت چھپی رہ جائے گی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.