دوستوں میں نہیں وہ بات جو اغیار میں ہے
دوستوں میں نہیں وہ بات جو اغیار میں ہے
سچ یہی ہے یہ تامل ہمیں اظہار میں ہے
اک وفا پیشہ نے کر لی ہے وفا سے توبہ
تذکرہ آج یہی کوچہ و بازار میں ہے
عمر بھر دیکھا کیے اس کی طرف یوں جیسے
سارے عالم کی حقیقت نگہ یار میں ہے
ایک عالم ہے کہ اس سمت کھنچا جاتا ہے
جانے وہ کون سی خوبی رسن و دار میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.