کبھی دوستوں کے ستم یاد آئے
کبھی دوستوں کے ستم یاد آئے
کبھی دشمنوں کے کرم یاد آئے
جو سلجھانے نکلے کبھی الجھنوں کو
ہمیں ان کی زلفوں کے خم یاد آئے
جو دیر و حرم سے کلیسا سے گزرے
ہمیں بھولے بسرے صنم یاد آئے
اسی کے غموں کا مداوا ہوا ہے
جنہیں غم میں شاہ امم یاد آئے
کہاں سے کہاں آ گئے چل کے میکشؔ
جہاں حادثے دم بہ دم یاد آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.