زیست کا آسان رستہ دیکھ لو
زیست کا آسان رستہ دیکھ لو
عشق دیکھو یا کہ صحرا دیکھ لو
ایک جانب آتش غفلت ہوئی
میری جانب دل کو جلتا دیکھ لو
دھوپ کی تم کو طلب ہے اس قدر
کچھ دنوں تک کوئی سایہ دیکھ لو
لے رہے ہو کیوں کسی سے انتقام
موت کا کچھ روز رستہ دیکھ لو
اک بغیچہ کھل اٹھا قرطاس پر
آج کوئی نام لکھا دیکھ لو
چند دن تو سب کے سب کرتے ہیں عشق
زندگی بھر کون بھایا دیکھ لو
اس کی زلفوں میں بہت سے چاند ہیں
ہو گیا روشن یہ شانہ دیکھ لو
زندگی عاشق کی گر ہو دیکھنا
کچھ نہیں بس ایک دریا دیکھ لو
اس طرف سے کس نے کھڑکی کھول دی
اس طرف سے دل یہ چمکا دیکھ لو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.