میری آنکھوں سے کیوں نہاں ہو تم
میری آنکھوں سے کیوں نہاں ہو تم
میرے محبوب میری جاں ہو تم
باغ دل کے ہر ایک غنچے میں
مثل خوشبو رواں دواں ہو تم
شہر آباد ہے امیدوں کا
ہر تمنا کی جسم و جاں ہو تم
جس کا مجھ پر طواف لازم ہے
محور زیست کا نشاں ہو تم
غور کرنا کبھی فراغت میں
اپنے جذبیؔ سے سرگراں ہو تم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.