میں کب سے ستاروں کا جہاں ڈھونڈ رہا ہوں
میں کب سے ستاروں کا جہاں ڈھونڈ رہا ہوں
ہے کیا تری آنکھوں میں نہاں ڈھونڈ رہا ہوں
سینے میں ترے ساتھ دھڑکتا ہے مرا دل
اس وجہ سے میں اس کو وہاں ڈھونڈ رہا ہوں
دنیا کی کشاکش سے نکلنے کے لیے میں
اسلاف کے قدموں کے نشاں ڈھونڈ رہا ہوں
دن رات کسی درد سے جلتا ہے مرا دل
آنکھوں میں چھپا ہے جو دھواں ڈھونڈ رہا ہوں
میں برق کی رفتار سے گزروں گا یہاں سے
اک راستہ ایسا ہے کہاں ڈھونڈ رہا ہوں
فرحانؔ مرے ساتھ رہو شہر وفا میں
میں اپنے لیے ایک مکاں ڈھونڈ رہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.