دل میرا اگر ہے تو مرا کیوں نہیں لگتا
دل میرا اگر ہے تو مرا کیوں نہیں لگتا
یہ طرفہ تماشہ بھی برا کیوں نہیں لگتا
سچائی سے معمور ہے گرچہ ترا لہجہ
لیکن تری نیت سے جڑا کیوں نہیں لگتا
پھرتا ہے اسی شہر میں اب غیر کے ہمراہ
اب شہر کے لوگوں کو برا کیوں نہیں لگتا
اک شخص جو قربت میں قریں لگتا تھا مجھ کو
اب مجھ سے جدا ہے تو جدا کیوں نہیں لگتا
جاتی ہے صفا کو کبھی مروہ کو مری ماں
لیکن ترے زمزم کو پتہ کیوں نہیں لگتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.