کچھ اس طرح سے خود کو منظم کروں گا میں
کچھ اس طرح سے خود کو منظم کروں گا میں
الفت کا دیپ تیز ہے سو کم کروں گا میں
آتی ہے آسمان سے بارش بھی دھوپ بھی
اپنے غموں کو دیکھنا مرہم کروں گا میں
مرجھا گیا تھا پھول مرا چھوٹی عمر میں
اپنی ہر ایک سانس پہ ماتم کروں گا میں
شب بھر کسی کی یاد میں ہر پھول روتا ہے
دامن کسی کی یاد میں اب نم کروں گا میں
ہر ایک اپنی بات کو بہتر بتاتا ہے
کب تک انا کے دہر میں ہم ہم کروں گا میں
گرتا رہا جو پانی تو پتھر میں نقش ہے
الفت کی دوڑ بھاگ کو پیہم کروں گا میں
یہ حسن کا جہان بہت چال باز ہے
تسخیر ہر طرح سے یہ عالم کروں گا میں
ہمدم نے آ کے مجھ سے فقط تھوڑی بات کی
تجھ کو شفا ملے گی اگر دم کروں گا میں
خود کو سنا رہا ہوں ابھی داستان ہجر
مقصودؔ دل فریب یہ موسم کروں گا میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.