کنارے جھیل کے بیٹھا ہوا ہے
کنارے جھیل کے بیٹھا ہوا ہے
کسی کی یاد میں کھویا ہوا ہے
اسے کس طرح ہم باہر نکالیں
تیری آنکھوں میں جو ڈوبا ہوا ہے
جو دل تم حسرتوں سے مانگتی ہو
زمانے بھر کا ٹھکرایا ہوا ہے
جلایا ہے کسی نے ان کو دن میں
دیوں کے ساتھ میں دھوکہ ہوا ہے
بس اک اس بات پر خوش ہے پڑوسی
مرے آنگن کا بٹوارا ہوا ہے
بنی ہیں ایک دو گلیوں کہ سڑکیں
اسے بھی بورڈ پر لکھا ہوا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.