سر پٹکتا رہا شب بھر مرا سودائے جنوں
سر پٹکتا رہا شب بھر مرا سودائے جنوں
خواب چلاتے رہے ہائے جنوں ہائے جنوں
مجھ کو اک لمحہ بھی تنہا نہیں رہنے دیتی
رقص انداز ہے ہر سانس میں لیلائے جنوں
شور کرتی ہے بہت میری خوش آواز ہنسی
جوش میں آتا ہے جب جب مرا دریائے جنوں
تشنگی حد سے گزرتی ہے تو پی لیتا ہوں
اپنی آنکھوں سے ٹپکتی ہوئی صہبائے جنوں
کیا مزا ہو جو شب ہجر مجھے دے نئے غم
اور ہر غم پہ نئے ڈھنگ سے بل کھائے جنوں
شدت ضبط نے بخشی ہے کچھ ایسی وحشت
ڈھونڈتے پھرتے ہیں مجھ کو سبھی جویائے جنوں
لاؤ اب اس سے بھی کچھ تیز کسی دھن کا سراغ
کب تلک اپنے قدم موت پہ تھرکائے جنوں
میری تصویر دکھا کر کہا جاتا ہے سفیرؔ
دیکھ لو ایسا نظر آتا ہے مولائے جنوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.