رشک آتا ہے اس زمانے پر
رشک آتا ہے اس زمانے پر
لوگ روتے تھے دکھ سنانے پر
کوئی پوچھے تو دل دکھانے پر
کیا گزرتی ہے اک دوانے پر
اس کے در پر ہی میرے جیسوں کی
سر بلندی ہے سر جھکانے پر
میری ہستی تو اک گھروندہ ہے
ٹوٹ جائے گی پھر بنانے پر
روٹھتے ہیں وہ بے سبب لیکن
مان جاتے ہیں پھر منانے پر
میکدے میں چراغ روشن ہے
تیرگی ہے کتاب خانے پر
کیا سبب ہے کہ سر مرا مجھ کو
بوجھ لگتا ہے میرے شانے پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.