Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ملنے کو ہر اک بزم میں فرزانے ملیں گے

نور قریشی

ملنے کو ہر اک بزم میں فرزانے ملیں گے

نور قریشی

MORE BYنور قریشی

    ملنے کو ہر اک بزم میں فرزانے ملیں گے

    ہم جیسے کہاں آپ کو دیوانے ملیں گے

    تاریخ مساوات کے اوراق تو دیکھو

    ہر باب میں تم کو مرے افسانے ملیں گے

    جب آئے گا گلشن کو لہو دینے کا موسم

    دو چار قدم آگے ہی دیوانے ملیں گے

    ساقی تری مخمور نگاہی کی قسم ہے

    مستی میں ہمیشہ ترے مستانے ملیں گے

    یہ شہر جنوں خیز ہے اس شہر میں لوگو

    ہر گام پہ ہر موڑ پہ دیوانے ملیں گے

    ساقی کی عنایت کی بڑی دھوم ہے لیکن

    محفل میں تہی آپ کو پیمانے ملیں گے

    گلشن کا فقط ایک ہی رخ دیکھنے والو

    احساس کو لو دوگے تو ویرانے ملیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے