ملنے کو ہر اک بزم میں فرزانے ملیں گے
ملنے کو ہر اک بزم میں فرزانے ملیں گے
ہم جیسے کہاں آپ کو دیوانے ملیں گے
تاریخ مساوات کے اوراق تو دیکھو
ہر باب میں تم کو مرے افسانے ملیں گے
جب آئے گا گلشن کو لہو دینے کا موسم
دو چار قدم آگے ہی دیوانے ملیں گے
ساقی تری مخمور نگاہی کی قسم ہے
مستی میں ہمیشہ ترے مستانے ملیں گے
یہ شہر جنوں خیز ہے اس شہر میں لوگو
ہر گام پہ ہر موڑ پہ دیوانے ملیں گے
ساقی کی عنایت کی بڑی دھوم ہے لیکن
محفل میں تہی آپ کو پیمانے ملیں گے
گلشن کا فقط ایک ہی رخ دیکھنے والو
احساس کو لو دوگے تو ویرانے ملیں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.