جب سے آشفتہ سری کے اڑے افسانے چند
جب سے آشفتہ سری کے اڑے افسانے چند
مجھ کو ہر گام ہی آنے لگے سمجھانے چند
جانے کیسی ہے کشش آپ کے خطبوں میں حضور
روز آ جاتے ہیں اس بزم میں دیوانے چند
اب خدا جانے کہاں جا کے بسیں گے کچھ لوگ
اب کے آندھی نے اڑا ڈالے ہیں کاشانے چند
ہر گھڑی گریہ و زاری کی صدا آتی ہے
دل کے اس شہر میں سجتے ہیں عزا خانے چند
میرا سکھ چین مری نیند دھڑکتا ہوا دل
آپ کے قدموں میں رکھے ہیں یہ نذرانے چند
چلتی ہے فتووں کی تلوار خدا خیر کرے
شیخ کی بزم میں آ بیٹھے ہیں مستانے چند
پھر بنا پوچھے ہی بتلاتے ہیں رستہ اظہرؔ
پھر لگے مجھ کو مری راہ سے بھٹکانے چند
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.