گوری اب تْو آپ سمجھ لے ہم ساجن یا دشمن ہیں
گوری اب تْو آپ سمجھ لے ہم ساجن یا دشمن ہیں
گوری تو ہے جسم ہمارا ہم تیرا پیراہن ہیں
نگری نگری گھوم رہے ہیں سخیو اچھا موقع ہے
روپ سروپ کی بھکشا دے دو ہم تو پھیلا دامن ہیں
تیرے چاکر ہو کر پایا درد بہت رسوائی بہت
تجھ سے تھے یہ ٹکے کمائے آج تجھی کو ارپن ہیں
لوگو میلے تن من دھن کی ہم کو سخت مناہی ہے
لوگو ہم اس چھوت سے بھاگیں ہم تو کھرے برہمن ہیں
پوچھو کھیل بنانے والے پوچھو کھیلنے والے سے
ہم کیا جانیں کس کی بازی ہم جو پتے باون ہیں
صحرا سے جو پھول چنے تھے ان سے روح معطر ہے
اب جو خار سمیٹا چاہیں بستی بستی گلشن ہیں
دو دو بوند کو اپنی کھیتی ترسی ہے اور ترسے گی
کہنے کو تو دوست ہمارے بھادوں ہیں اور ساون ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.