دشمن کو دوست دوست کو دشمن بنا لیا
دشمن کو دوست دوست کو دشمن بنا لیا
یوں بزم رسم و راہ کو پھر سے سجا لیا
آنکھیں مری ترستی رہیں اس کی دید کو
بادل نے میرے چاند کو ایسے چھپا لیا
جگنو سے روشنی کی توقع نہ میں نے کی
بجھنے لگا چراغ تو دل کو جلا لیا
صحرا میں تپتی ریت پہ چلتے چلے گئے
چل چل کے ہم نے عشق کی منزل کو پا لیا
خون جگر سے درد کے شعلے بھڑک گئے
جلنے لگا وجود تو آنسو بہا لیا
جس نے تمام عمر فقط زخم ہی دیے
میں نے اسی کی یاد کو مرہم بنا لیا
بڑھنے لگی جو کیفیت اضطراب عشق
اخترؔ کسی غزل کو تری گنگنا لیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.