دیدار حسن یار سر عام تو کیا
دیدار حسن یار سر عام تو کیا
مدت کے بعد دل نے مرے کام تو کیا
جھوموں خوشی سے کیوں نہ سر بزم مے کشاں
اک شام اس نے جام مرے نام تو کیا
قسمت میں مے نہیں تھی جو میرے تو کیا ہوا
اس نے قریب لب کے مرے جام تو کیا
خاموش رہ کے اہل جنوں نے یہ اب کی بار
شور و شغب سے اچھا اک اقدام تو کیا
اچھا ہے اس بہانے ذرا نام ہو گیا
طارقؔ کو تم نے دنیا میں بدنام تو کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.