کہنے کو اس کے پاؤں ہے شہرت پڑی ہوئی
کہنے کو اس کے پاؤں ہے شہرت پڑی ہوئی
لیکن ہے رخ پہ گرد ملامت پڑی ہوئی
میں اس دکاں سے راہ بدل کر نکل گیا
جس میں تھی میرے گھر کی ضرورت پڑی ہوئی
یہ اشک ہیں زمیں پہ گراتے ہو کس لئے
سجتی نہیں زمیں پہ یہ دولت پڑی ہوئی
نیند آ رہی ہے رہ میں گھنی چھاؤں دیکھ کر
لیکن ابھی بہت ہے مسافت پڑی ہوئی
مجھ کو بھی اس سڑک سے گزرنا ضرور ہے
اس راہ کو بھی ہے مری عادت پڑی ہوئی
کس بات پر ہم اپنی انا بیچ دیں ظہیرؔ
ایسی بھی کون سی ہے مصیبت پڑی ہوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.