پیام دشت کے پروردگار لائے ہیں
پیام دشت کے پروردگار لائے ہیں
سنو اسیر خزاں ہم بہار لائے ہیں
کہو تو رخت سفر اور مختصر کر لیں
جو قافلے میں بدن کا غبار لائے ہیں
ہر ایک دل میں در آئی فراز کی خواہش
یہ خواب جب سے مجھے سوئے دار لائے ہیں
خدا ہے مد مقابل سو احتجاجاً لوگ
گھروں سے اب تری تصویر اتار لائے ہیں
جہاں نظر میں ترا غم بھی معتبر نہ رہا
مجھے وہاں بھی جنوں کے حصار لائے ہیں
اسے کہو نہ کرے مسترد خیال وصال
کہ ہم قضا سے یہ لمحے ادھار لائے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.