Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حسن کی اب اور کچھ تمثیل ہونی چاہئے

روبینہ ایاز

حسن کی اب اور کچھ تمثیل ہونی چاہئے

روبینہ ایاز

MORE BYروبینہ ایاز

    حسن کی اب اور کچھ تمثیل ہونی چاہئے

    ان کی آنکھوں کی طرح اک جھیل ہونی چاہیے

    دشت میں دو کرسیاں اک میز اور تازہ گلاب

    روبرو ہم درمیاں قندیل ہونی چاہیے

    اس کہانی میں سبھی کیوں عشق سے بے زار ہیں

    یہ کہانی اب ذرا تبدیل ہونی چاہئے

    عشق میں محبوب کو حاصل ہے وہ اعلیٰ مقام

    جو کہے وہ حکم ہے تعمیل ہونی چاہیے

    اک خیالی شخص میرے خواب میں آتا رہا

    اس حقیقت کی کہیں تشکیل ہونی چاہئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے