حسن کی اب اور کچھ تمثیل ہونی چاہئے
حسن کی اب اور کچھ تمثیل ہونی چاہئے
ان کی آنکھوں کی طرح اک جھیل ہونی چاہیے
دشت میں دو کرسیاں اک میز اور تازہ گلاب
روبرو ہم درمیاں قندیل ہونی چاہیے
اس کہانی میں سبھی کیوں عشق سے بے زار ہیں
یہ کہانی اب ذرا تبدیل ہونی چاہئے
عشق میں محبوب کو حاصل ہے وہ اعلیٰ مقام
جو کہے وہ حکم ہے تعمیل ہونی چاہیے
اک خیالی شخص میرے خواب میں آتا رہا
اس حقیقت کی کہیں تشکیل ہونی چاہئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.