تعمیر ہوئی خاک کی دنیا مرے آگے
تعمیر ہوئی خاک کی دنیا مرے آگے
اک نور تھا اک ذات تھی تنہا مرے آگے
پھر موج تصور نے بنایا کوئی دریا
اور ڈوب گیا نقش تمنا مرے آگے
جب دیکھ لیا نقش قدیم شب ہجراں
پھر چاک ہوا دل کا صحیفہ مرے آگے
میں خود ہی تماشا ہوں تماشائی بھی خود ہوں
پھر کون دکھائے گا تماشا مرے آگے
اک نور نے چھو لی مری خاموش نگاہیں
اور کھل گیا باطن کا دریچہ مرے آگے
راشدؔ یہ تجلی بھی عجب کھیل دکھائے
پردہ بھی وہی اور وہی چہرہ مرے آگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.