سب کچھ جل تھل کرنے والی بارش ہے
سب کچھ جل تھل کرنے والی بارش ہے
یہ تو پاگل ڈرنے والی بارش ہے
مشکل ہے سیرابی میرے گالوں کی
یعنی صاف مکرنے والی بارش ہے
یہ تو زمیں کی پیاس بجھانے آئی تھی
عرش کے پار اترنے والی بارش ہے
پھول کھلانے والے بادل کہاں گئے
یہ تو مارنے مرنے والی بارش ہے
روشنیوں کے شہر خدا رکھے تجھ کو
یہاں کسی سے ڈرنے والی بارش ہے
دریاؤں کی معتوبی کافی کب تھی
صحرا میں پاؤں دھرنے والی بارش ہے
آنکھوں کو بادل بتلاتے ہیں مہنازؔ
دل کو دریا کرنے والی بارش ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.