رکھتا ہے ظاہراً جسے زندان باندھ کر
رکھتا ہے ظاہراً جسے زندان باندھ کر
زنجیر پا سے بیٹھا ہے ایوان باندھ کر
کس کس ادا سے اس نے بنایا مجھے اسیر
بانہوں کو کھول کر کبھی پیمان باندھ کر
آیا تو جھومتا رہا دریا کی ناف میں
لایا تھا اپنے ساتھ جو طوفان باندھ کر
گرہیں نہ کھول پاؤں گا میں جانتا ہے وہ
دل میں ہی چھوڑ جائے گا سامان باندھ کر
لوٹ آیا ایک موج عریضہ بہا کے میں
دریا سے تیری پیاس کا ارمان باندھ کر
منت کے دھاگے سے میری قسمت نہیں کھلی
آیا ہوں اب کہ چاک گریبان باندھ کر
پندار اس کی یاد کے پیچھے پڑا تھا عونؔ
اک سمت رکھ دیا ہے یہ حیوان باندھ کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.