Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گھر جو دریا کے کنارے پہ بنا ہوتا ہے

ناصر مصباحی

گھر جو دریا کے کنارے پہ بنا ہوتا ہے

ناصر مصباحی

MORE BYناصر مصباحی

    گھر جو دریا کے کنارے پہ بنا ہوتا ہے

    اس کو معلوم ہے طوفان سے کیا ہوتا ہے

    ڈر ستاتا ہے مجھے سنگ بدستوں کا بہت

    جب مرے ہاتھوں میں مٹی کا گھڑا ہوتا ہے

    سب ترے نام کی تسبیح بتاتے ہیں اسے

    منہ سے مدہوشی میں جو لفظ ادا ہوتا ہے

    کیا کہا ہنستی ہوئی آنکھ سے آنسو بہنا

    یہ تماشا مری آنکھوں میں سدا ہوتا ہے

    دن تو کچھ آپ سے کچھ ان سے بتا لیتا ہوں

    رات آتی ہے تو مت پوچھئے کیا ہوتا ہے

    میری روتی ہوئی آنکھوں کو ذرا غور سے دیکھ

    خون آنسو میں مرادوں کا ملا ہوتا ہے

    اک سہاگن یہ بڑے مان سے بولی ناصرؔ

    ہاتھ سے آرتی چھوٹے تو برا ہوتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے