گھر جو دریا کے کنارے پہ بنا ہوتا ہے
گھر جو دریا کے کنارے پہ بنا ہوتا ہے
اس کو معلوم ہے طوفان سے کیا ہوتا ہے
ڈر ستاتا ہے مجھے سنگ بدستوں کا بہت
جب مرے ہاتھوں میں مٹی کا گھڑا ہوتا ہے
سب ترے نام کی تسبیح بتاتے ہیں اسے
منہ سے مدہوشی میں جو لفظ ادا ہوتا ہے
کیا کہا ہنستی ہوئی آنکھ سے آنسو بہنا
یہ تماشا مری آنکھوں میں سدا ہوتا ہے
دن تو کچھ آپ سے کچھ ان سے بتا لیتا ہوں
رات آتی ہے تو مت پوچھئے کیا ہوتا ہے
میری روتی ہوئی آنکھوں کو ذرا غور سے دیکھ
خون آنسو میں مرادوں کا ملا ہوتا ہے
اک سہاگن یہ بڑے مان سے بولی ناصرؔ
ہاتھ سے آرتی چھوٹے تو برا ہوتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.