یار کی خبر لینے چارہ گر نہیں جاتا
یار کی خبر لینے چارہ گر نہیں جاتا
لفظوں کے دلاسوں سے زخم بھر نہیں جاتا
ہر طرف اداسی کے ہوں گے منتظر جالے
اس خیال سے واپس اپنے گھر نہیں جاتا
خوبرو بہت آئے تیرے بعد بھی لیکن
زخم تجھ سے کھایا جو اس کا ڈر نہیں جاتا
کوئی لاکھ بھی کہہ دے وقت سب مٹا دے گا
دل پہ جو لکھا جائے وہ اثر نہیں جاتا
روز مسکراتا ہوں درد چھپ بھی جاتا ہے
رات ڈھلتے ہی لیکن یہ ہنر نہیں جاتا
ساگرؔ اس کی یادوں کا آخری امیں ٹھہرا
سانس تھم بھی جائے تو یہ سفر نہیں جاتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.