کس سے کہیں کہ رنج اٹھانا پڑا ہمیں
کس سے کہیں کہ رنج اٹھانا پڑا ہمیں
چپ چاپ دل کا درد دبانا پڑا ہمیں
ہمدردیوں کا شور تو ہر سمت تھا مگر
تنہا ہر ایک بوجھ اٹھانا پڑا ہمیں
اپنوں کی تلخ باتوں سے دل ہے دکھی مگر
ان کے لئے ہی ہنسنا ہنسانا پڑا ہمیں
مخلص نہ تھے عزیز جو وہ بھی کسی جگہ
جب مل گئے گلے سے لگانا پڑا ہمیں
مجرم نہیں تھے پھر بھی عدالت میں آپ کی
الزام اپنے سر پہ اٹھانا پڑا ہمیں
اس بے حسی کے دور میں ارشادؔ کس طرح
ماحول سازگار بنانا پڑا ہمیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.