خواب پلکوں پہ نہ ٹھہرے تو غزل کہیے گا
خواب پلکوں پہ نہ ٹھہرے تو غزل کہیے گا
درد جب دل سے نہ نکلے تو غزل کہیے گا
آپ نے عشق کیا ہے تو ٹھہریے تھوڑا
جب لگیں عشق پہ پہرے تو غزل کہیے گا
سسکیاں قلب کے اندر ہی اگر مر جائیں
اشک آنکھوں سے نہ نکلے تو غزل کہیے گا
جب کٹیں اس کے تخیل میں ہی ہر شام و سحر
ذہن سے جب وہ نہ اترے تو غزل کہیے گا
جب سمجھ آنے لگے ہجر کسے کہتے ہیں
کیفیت موت سی گزرے تو غزل کہیے گا
منفرد رنگ کے اشعار اگر کہنے ہوں
فکر جب قید سے نکلے تو غزل کہیے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.