Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خواب پلکوں پہ نہ ٹھہرے تو غزل کہیے گا

روبینہ ایاز

خواب پلکوں پہ نہ ٹھہرے تو غزل کہیے گا

روبینہ ایاز

MORE BYروبینہ ایاز

    خواب پلکوں پہ نہ ٹھہرے تو غزل کہیے گا

    درد جب دل سے نہ نکلے تو غزل کہیے گا

    آپ نے عشق کیا ہے تو ٹھہریے تھوڑا

    جب لگیں عشق پہ پہرے تو غزل کہیے گا

    سسکیاں قلب کے اندر ہی اگر مر جائیں

    اشک آنکھوں سے نہ نکلے تو غزل کہیے گا

    جب کٹیں اس کے تخیل میں ہی ہر شام و سحر

    ذہن سے جب وہ نہ اترے تو غزل کہیے گا

    جب سمجھ آنے لگے ہجر کسے کہتے ہیں

    کیفیت موت سی گزرے تو غزل کہیے گا

    منفرد رنگ کے اشعار اگر کہنے ہوں

    فکر جب قید سے نکلے تو غزل کہیے گا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے