خزاں رسیدہ درخت بولا میں اب کے خود کو نکھار لوں گا
خزاں رسیدہ درخت بولا میں اب کے خود کو نکھار لوں گا
جو پھر سے لوٹی بہار کی رت تو اپنی حالت سنوار لوں گا
جو راس آئے مجھے وہ محفل کبھی ملی ہے نہ مل سکے گی
میں اپنے سارے غموں کو سینے میں رکھ کے جیون گزار لوں گا
جو اس نے چھوڑا تو میں نے ٹھانی کہ اب میں خود کو ہی وقت دوں گا
میں خود کو محدود رکھ کے اس سے خمار اس کا اتار لوں گا
وہ جب بھی بولے تو سارا مجمع اسی کو سنتا ہے دیکھتا ہے
وہ جب بھی آئے گا روبرو تو میں لطف آواز یار لوں گا
ہزار ہا ساعتوں کو میں اس حسین ساعت پہ وار دوں جب
میں دیکھ کر کج ادا کی ساری ادائیں دل میں اتار لوں گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.