کہوں میں کس سے یہ کار سیاہ کس نے کیا
کہوں میں کس سے یہ کار سیاہ کس نے کیا
فقیر شخص کو عالم پناہ کس نے کیا
ابھی بھی خون کے دھبے ہیں جس کے دامن پر
میں پوچھتا ہوں اسے سربراہ کس نے کیا
کبھی یہاں بھی محبت کے پھول کھلتے تھے
تجھے اے شہر وفا قتل گاہ کس نے کیا
ثبوت سارے تھے میرے خلاف یہ سچ ہے
پھر اختلاط سفید و سیاہ کس نے کیا
نہیں ہے ٹھیک تری بے نیازی بھی ظالم
جو ہم کو پوچھ رہا ہے تباہ کس نے کیا
یہ کس نے آپ کے ہاتھوں میں طاقتیں بخشیں
رئیسؔ آپ کو یوں کج کلاہ کس نے کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.