در در کی بھی نہ ٹھوکر کھاؤ موقع ہے
در در کی بھی نہ ٹھوکر کھاؤ موقع ہے
خود اپنی پہچان بناؤ موقع ہے
زخموں کی گنجائش رکھی ہے میں نے
تم بھی اپنا تیر چلاؤ موقع ہے
یا تو میرے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھو
یا دنیا سے ہاتھ ملاؤ موقع ہے
میں طوفان میں کشتی لے کر اترا ہوں
تم چاہو تو جان چھڑاؤ موقع ہے
ساتھ نہ چھوٹے آپس کی تکراروں میں
ہاتھوں کو زنجیر بناؤ موقع ہے
آ جائے گا نام شہیدوں میں اپنا
اس مٹی پر جان لٹاؤ موقع ہے
آج عدالت اور یہ منصف تیرے ہیں
جو چاہو الزام لگاؤ موقع ہے
تیری حویلی میرا چھپر ٹوٹ گیا
ٹوٹ نہ جائے دیش بچاؤ موقع ہے
کل یہ تم کو خون رلائے گی غافلؔ
آنگن کی دیوار گراؤ موقع ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.