Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

در در کی بھی نہ ٹھوکر کھاؤ موقع ہے

انور غافل

در در کی بھی نہ ٹھوکر کھاؤ موقع ہے

انور غافل

MORE BYانور غافل

    در در کی بھی نہ ٹھوکر کھاؤ موقع ہے

    خود اپنی پہچان بناؤ موقع ہے

    زخموں کی گنجائش رکھی ہے میں نے

    تم بھی اپنا تیر چلاؤ موقع ہے

    یا تو میرے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھو

    یا دنیا سے ہاتھ ملاؤ موقع ہے

    میں طوفان میں کشتی لے کر اترا ہوں

    تم چاہو تو جان چھڑاؤ موقع ہے

    ساتھ نہ چھوٹے آپس کی تکراروں میں

    ہاتھوں کو زنجیر بناؤ موقع ہے

    آ جائے گا نام شہیدوں میں اپنا

    اس مٹی پر جان لٹاؤ موقع ہے

    آج عدالت اور یہ منصف تیرے ہیں

    جو چاہو الزام لگاؤ موقع ہے

    تیری حویلی میرا چھپر ٹوٹ گیا

    ٹوٹ نہ جائے دیش بچاؤ موقع ہے

    کل یہ تم کو خون رلائے گی غافلؔ

    آنگن کی دیوار گراؤ موقع ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے